بلندشہر ، 31؍جوالائی (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )اتر پردیش کے بلند شہر کے قریب ایک خاتون اور اس کی نابالغ بیٹی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں آج 14افراد کو حراست میں لیا گیا۔وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے اس واردات کو بے حد سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس کو معاملے کی خلاصہ کے لیے 24گھنٹے کی مہلت دی ہے۔سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ ویبھو کرشن نے بتایا کہ گزشتہ جمعہ کی رات کو لٹیروں کے ایک گروپ نے نوئیڈا سے شاہ جہاں پور جا رہے ایک کار سوار خاندان کو گاؤں کوتوالی علاقے میں روکا اور ایک خاتون اوراس کی 13سالہ بیٹی کو گھسیٹ کر قریبی کھیت میں لے گئے اور ان کے ساتھ عصمت دری کی ، جبکہ مردوں کو رسی سے باندھ دیا۔انہوں نے بتایا کہ لٹیروں نے کار سوار لوگوں سے نقدی، زیورات اور موبائل فون بھی لوٹ لیا ۔کرشن نے بتایا کہ خاندان کاایک رکن رسی کھولنے میں کامیاب رہا اور معاملے کی اطلاع پولیس کو دی۔تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت ایک ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، اس معاملے میں اب تک 14افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔دریں اثناوزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے بلندشہر ضلع میں ہوئی اس واردات کو بے حد سنجیدگی سے لیتے ہوئے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کوواردات کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کے لیے 24گھنٹے کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ معاملے میں قصورواروں کوجلدگرفتار کرکے قانونی کارروائی کے ذریعے سے ایسی سزا دلائی جائے کہ مستقبل میں کوئی بھی ایسی جرات کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔انہوں نے پولیس ڈائریکٹر جنرل جاوید احمد کو معاملے کا فوری خلاصہ کرکے قصورواروں کی گرفتاری کو یقینی بنانے اورمعاملے سے متعلق تھانہ انچارجوں اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی بھی سخت ہدایات دی ہیں۔اکھلیش یادو نے متاثرہ خاندان کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت قصورواروں کوجلد سے جلد گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دلوائے گی ۔وزیراعلیٰ نے واقعہ کو افسوسناک اور بدقسمتی کی بات قراردیتے ہوئے پولیس ڈائریکٹر جنرل کوہدایت دی ہے کہ ایسے واقعات کے تکرارکو ر وکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے جائیں۔ساتھ ہی ایسے واقعات میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایاجائے۔بہر حال پولیس نے متاثرہ خاندان کی نشاندہی پر اصل مشتبہ افراد کی شناخت کر کے اس کے ٹھکانوں کاپتہ لگالیاہے اور 15ٹیموں کو اسے گرفتاکرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ٹی ایف کی ٹیمیں کارروائی کر رہی ہیں اور بلند شہر، میرٹھ اور دیگر ریاستوں میں چھاپہ ماری کر رہی ہیں۔اس معاملے میں لاپرواہی کی شکایت ملنے پر متعلقہ کوتوال رام سین کو کوتوالی کے عہدے سے آزاد کرکے پولیس لائنس سے جوڑ دیا ہے۔